امریکا اور ایران کے صدور نے ایک مفاہمتی یادداشت پر الیکٹرانک دستخط

امریکا اور ایران کے صدور نے ایک مفاہمتی یادداشت پر الیکٹرانک دستخط

جسے “اسلام آباد مفاہمتی یادداشت” قرار دیا جا رہا ہے۔ معاہدے سے متعلق وائٹ ہاؤس نے ایک ویڈیو بھی جاری کی ہے۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وارسائی میں ایک عشائیے کے دوران اس معاہدے پر دستخط کیے، جہاں فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون بھی موجود تھے۔ دوسری جانب ایرانی سرکاری میڈیا نے بھی ایران کے صدر مسعود پزشکیان کی دستخط کرتے ہوئے تصاویر جاری کی ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے عشائیے سے روانگی کے وقت میڈیا کے سوال پر کہا کہ انہوں نے “ ایران ڈیل” پر دستخط کر دیے ہیں۔ذرائع کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والی اس مفاہمتی یادداشت کا مکمل متن بھی جاری کر دیا گیا ہے، جو 14 نکات پر مشتمل ہے۔ امریکی حکام نے یہ متن میڈیا کے سامنے پڑھ کر سنایا۔

معاہدے کے مطابق پہلا نکتہ فوری اور مستقل جنگ بندی ہے۔ دستاویز میں تمام محاذوں پر، بشمول لبنان، مستقل جنگ بندی پر اتفاق کیا گیا ہے۔

متن میں آبنائے ہرمز کی بحالی، ایران پر بعض مالی پابندیوں میں نرمی، اور ایران کی جانب سے اس عزم کی تجدید شامل ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل یا تیار نہیں کرے گا۔

امریکی حکام کے مطابق یہ مفاہمتی یادداشت جمعہ کو باضابطہ دستخط کے لیے پیش کی جائے گی۔ معاہدے کے تحت امریکا بحری ناکہ بندی ختم کرے گا اور علاقائی شراکت داروں کے ساتھ مل کر ایران کی تعمیر نو اور اقتصادی ترقی میں تعاون کرے گا۔

اپنا تبصرہ لکھیں