ستلج کا کٹاؤ: پاکپتن، بہاولنگر میں سیکڑوں مکانات دریا برد، جلالپور میں 3 افراد جاں بحق

ستلج کا کٹاؤ: پاکپتن، بہاولنگر میں سیکڑوں مکانات دریا برد، جلالپور میں 3 افراد جاں بحق

لاہور، ملتان، بہاولپور: دریائے ستلج کے زمینی کٹاؤ سے بہاولنگر اور پاکپتن میں سیکڑوں مکانات دریا برد ہو گئے، جلالپور پیر والا میں 2 خواتین اور ایک نوجوان ڈوب کر جاں بحق ہو گئے، لیاقت پور میں پانی کھڑا ہونے کے باوجود گھروں کو واپسی شروع ہو گئی۔

دریائے ستلج نے پاکپتن گاؤں باقرکے کا رخ کر لیا، زمینی کٹائو تیزی سے جاری ہے، درجنوں گھر دریا برد ہو گئے، لوگوں نے اپنے مکانوں سے قیمتی سامان اتارنا شروع کر دیا، گائوں کو مزید نقصان سے بچانے کے لئے ضلعی انتظامیہ کی دوڑیں، ہیوی مشینری کے ذریعے بند باندھنے کا عمل جاری ہے۔

ملتان کی تحصیل جلالپور پیروالا میں سیلابی پانی میں ڈوب کر 2 خواتین اور ایک نوجوان جاں بحق ہوگئے۔

ریسکیو حکام کے مطابق جلالپور پیروالا کی چک 81 ایم میں پانی اترنے پرخواتین گھر واپس جاتے ہوئے ڈوب گئیں جبکہ چک 66 ایم میں سیلاب کے جمع پانی میں نوجوان ڈوب کر جاں بحق ہوا۔

ادھر بہاول نگر کی بستی جانن والی اور گرد و نواح کے علاقے دریائے ستلج سے متاثر ہوئے جس کے باعث 50 سے زائد مکان دریائی کٹاؤ کی نذر ہوگئے۔

حکام کے مطابق 500 سے زائد مزید مکانوں کو خطرہ ہے، مقامی افراد کٹاؤ سے بچنے کے لیے اپنے گھر گرانے لگے ہیں، علاقے کے مدرسے اور مسجد کا بڑا حصہ بھی شہید ہوا جبکہ پرائمری سکول کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔

دوسری جانب بہاول پور میں باقر پور کے سیلاب متاثرین نے انتظامیہ پر ریلیف کیمپ خالی کرانے کا الزام لگایا اور احتجاج کیا تاہم ڈپٹی کمشنر نے متاثرین کا الزام مسترد کر دیا اور کہا کہ صورتِ حال میں بہتری پر متاثرین کو جانے کا کہا جائے گا، نقصانات کے سروے کے دوران متاثرین کا گھروں اور علاقے میں ہونا ضروری ہے۔

احمد پور شرقیہ اور اوچ شریف کے علاقوں شمس آباد ، بھںڈہ وینس ، اسماعیل پور ، جھانگڑہ شرقی میں مکانات منہدم ہو گئے، چناب رسول پور کی بستی چانڈیہ ، بستی جلبانی کے مکانات مکمل طور پر گر گئے۔

اپنا تبصرہ لکھیں