کنگڈم ویلی کے خلاف نیب کی کارروائی تیز، عوامی شکایات طلب، انکوائری کا دائرہ وسیع

کنگڈم ویلی کے خلاف نیب کی کارروائی تیز، عوامی شکایات طلب، انکوائری کا دائرہ وسیع

راولپنڈی: قومی احتساب بیورو (نیب) راولپنڈی نے ہاؤسنگ منصوبہ “کنگڈم ویلی” کی انتظامیہ کے خلاف موصول ہونے والی متعدد شکایات کے بعد انکوائری کا باقاعدہ آغاز کرتے ہوئے عوامی نوٹس جاری کر دیا ہے۔ نیب نے منصوبے سے متاثرہ افراد کو ہدایت کی ہے کہ وہ 30 روز کے اندر اپنی شکایات اور متعلقہ دستاویزات جمع کرائیں تاکہ انکوائری کو منطقی انجام تک پہنچایا جا سکے۔

نیب کی جانب سے جاری عوامی نوٹس کے مطابق متاثرہ شہری اپنی درخواستیں ذاتی طور پر یا ای میل کے ذریعے بھی جمع کرا سکتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق اب تک 200 سے زائد متاثرین نیب راولپنڈی سے رجوع کر چکے ہیں، جن کی درخواستوں کی روشنی میں مزید شواہد اور ریکارڈ اکٹھا کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ شکایات میں پلاٹس اور فائلوں کی خرید و فروخت، وعدوں کی عدم تکمیل، مالی بے ضابطگیوں اور سرمایہ کاروں کو مبینہ طور پر نقصان پہنچانے جیسے معاملات شامل ہیں۔ نیب نے متاثرین سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے پاس موجود تمام دستاویزی شواہد، ادائیگیوں کا ریکارڈ اور دیگر متعلقہ معلومات فراہم کریں تاکہ حقائق کی مکمل جانچ کی جا سکے۔

دوسری جانب شکایات میں کنگڈم ویلی کے مالک غلام حسین شاہد پر پلاٹس اور فائلوں کی مد میں مبینہ طور پر 31 کروڑ روپے کے فراڈ کا الزام بھی شامل ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق اس معاملے پر ان کے خلاف تھانہ کوہسار میں ایک مقدمہ بھی درج کیا جا چکا ہے۔ تاہم ان الزامات پر متعلقہ فریق کا مؤقف سامنے نہیں آیا۔

قانونی ماہرین کے مطابق نیب کی جانب سے عوامی نوٹس جاری ہونا اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ ادارہ دستیاب شواہد کی بنیاد پر انکوائری کو آگے بڑھا رہا ہے، تاہم انکوائری مکمل ہونے اور کسی عدالت کی جانب سے فیصلہ آنے تک کسی بھی فرد یا ادارے کو قانونی طور پر مجرم قرار نہیں دیا جا سکتا۔

اب سرمایہ کاروں اور متاثرین کی نظریں نیب کی تحقیقات پر مرکوز ہیں، جن سے یہ واضح ہوگا کہ شکایات میں کس حد تک قانونی بنیاد موجود ہے اور آیا مزید کارروائی عمل میں لائی جائے گی

اپنا تبصرہ لکھیں