علی ظفر نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ میں خدا کا شکر گزار ہوں اور اُن تمام افراد کا بھی جنہوں نے میری زندگی کے مشکل ترین وقت میں میرا اور سچ کا ساتھ دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ بلآخر انصاف ہو گیا ہے، مجھے کسی قسم کی فتح کا احساس نہیں، صرف عاجزی اور شکر گزاری ہے، میں کسی کے خلاف کوئی منفی جذبات نہیں رکھتا۔
علی ظفر نے یہ بھی لکھا کہ میرے لیے یہ باب اب بند ہو چکا ہے، میں دعا کرتا ہوں کہ ہم سب وقار اور سکون کے ساتھ آگے بڑھیں۔
علی ظفر کا کہنا تھا کہ میں اس فتح کو جشن کے طور پر نہیں دیکھتا بلکہ میرے دل میں صرف عاجزی و انکساری اور شکر گزاری کے جذبات ہیں۔
واضح رہے کہ منگل کے روز لاہور کی عدالت نے علی ظفر کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے میشا شفیع کو 50 لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔
علی ظفر ہتک عزت کا کیس جیت گئے، عدالت کا میشا شفیع کو 50 لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنےکا حکم
میشا شفیع پیشیوں کے دوران عدالت میں حاضر نہیں ہوئیں اور نہ ہی وہ اپنے الزامات کے حق میں خاطر خواہ شواہد پیش کر سکیں جب کہ علی ظفر نے اپنے تمام گواہان عدالت کے روبرو پیش کیے جس کے بعد عدالتی فیصلہ ان کے حق میں آ گیا۔
علی ظفر نے 2018 میں میشا شفیع کی جانب سے ہراسانی کے الزامات عائد کیے جانے کے بعد اُن کے خلاف ہتکِ عزت کا دعویٰ دائر کیا تھا جو پاکستان کے نمایاں ترین ‘می ٹو’ مقدمات میں شمار کیا جاتا ہے۔