پیپلزپارٹی کی پریس کانفرنس: جمہوریت کے شہداء کو سلام، سیلاب پر حکومت کی نااہلی بے نقاب

اسلام آباد: پاکستان پیپلزپارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات ندیم افضل چن اور جنرل سیکرٹری پنجاب سید حسن مرتضیٰ نے سنٹرل سیکریٹ اسلام آباد میں جمعہ کے روز ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج 12ستمبر ہے اور پارٹی ایم آرڈی کے شہداءکو خراج عقیدت پیش کر رہی ہے جنہوں نے ایم آرڈی کی تحریک میں اپنی جانوں کا نذرانہ جمہوریت کی بحالی کے لئے پیش کیا۔

انہوں نے کہا کہ آج ملک میں جمہوریت انہی شہدا ءکے دم سے قائم ہے۔ اور ہم انہیں سلام پیش کرتے ہیں۔ ندیم افضل چن نے کہا کہ حالیہ سیلابی صورتحال میں پی پی پی نے کسی طرح کی پوائنٹ سکورنگ نہیں کی ۔ چیرمین بلاول بھٹو نے پورے ملک میں سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کیا ۔ انہوں نے کہا کہ پوری دنیا میں قدرتی آفات آتی ہیں ۔ کے پی کے میں تیرہ سال سے پی ٹی آئی کی حکومت ہے جہاں ناجائز تجاوزات اور ٹمبر مافیا کی وجہ سے صورتحال زیادہ خراب ہوئی ہے ۔

سیلاب میں پی پی پی نے سیاسی پوائنٹ اسکورنگ نہیں کی اور قصور میں بلاول بھٹوزرداری نے پنجاب حکومت کی تعریف کی ۔ پنجاب میں سیلاب نے بہت تباہی مچائی ہے ۔ کے پی میں ٹمبر مافیا اور انکروچمنٹ ہے اس پر تحقیقاتی کمیشن بنانا چاہیے ۔ کے پی میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے اس کی نا اہلی کھل کر سامنے آگئی ہے۔ چیرمین بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعظم پاکستان کو تجویز دی ہے کہ بی آئی ایس پی کے ڈیٹا کے زریعے امدادی رقوم دی جائیں۔ پنجاب حکومت امدادی سامان کی تقسیم کے لیے بھی پسند ناپسند کا طریقہ اختیار کیے ہوئے ہیں ۔ پی پی پی سینٹ قومی اسمبلی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں میں قرارداد پیش کردی ہے۔ سیلاب زدہ علاقوں میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام شروع کیا جائے ۔کسانوں تک پوری چیزیں نہیں پہنچیں۔ پنجاب میں کہیں اچھا کام ہوا ہے کہیں صرف ٹک ٹاک کی حد تک رہا ہے ۔ پنجاب میں سب سے اچھا کام 1122 نے کیا ہے۔ پنجاب میں پسند نہ پسند چل رہی ہے ۔ پنجاب حکومت کے پاس ڈیجٹل سسٹم ہے اس کو استعمال کیا جائے ۔پنجاب میں کسان رو رہا ہے ۔ حکومت کو چاہیے کہ کلائمیٹ چینج کا مقدمہ دنیا کے سامنے رکھے۔جنرل سیکرٹری پنجاب سید حسن مرتضیٰ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں سیلاب کی تباہی ناقابل بیان ہے ۔ ڈویژن فیصل آباد سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے ۔ ہمارے جو کچے کا علاقہ ہے وہاں مال مویشی ہی لوگوں کا وسیلہ آمدن ہے ۔ چنیوٹ اور مضافاتی علاقوں میں زیادہ نقصان ہوا ہے ۔کاشتکار پہلے ہی حکومتی نااہلی اور فیصلوں سے تباہ ہو چکا تھا ۔ حکومت آج بھی انہی کسانوں اور ہاریوں کی چادر چار دیواری کی پامالی کر رہی ہے ۔شہریوں نے اپنی مدد آپ کے تحت سیلاب زدگان کی بحالی کے لیے کام کیا ہے ۔ پٹواری کو اچھے الفاظ میں یاد نہیں کیا جاتا مگر پنجاب میں سب کام پٹواری ہے چھوڑ دیا ہے ۔ لوگوں کے جانورپانی کی نظر ہو گئے ہیں ان کا سب سے بڑا معاشی نقصان ہوا ہے۔ حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ لوگ تباہ ہوئے ہیں ۔ حکمران ہوش کے ناخن لیں۔سیلاب سے متاثرہ افراد مشکل میں ہیں، پوری قوم نے ایک قوم ہونے کا ثبوت دیا ، پوری قوم سیلاب متاثرین کے ساتھ کھڑی ہے اور حکومت بھی اپنی پوری کوششیں کر رہی ہے ۔ جو ادارے سیلاب اور زلزلوں کے لیے بنائے گئے ہیں ان اداروں کا آڈٹ ہونا چاہیے ۔ ہر سال نقصان ہو جاتا ہے مستقل اقدامات کیوں نہیں کیے جاتے کہ ہم ان نقصانات سے بچیں ۔

اپنا تبصرہ لکھیں