بالائی علاقوں میں برفباری سے نظام زندگی مفلوج، رابطہ سڑکیں بند، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، درجنوں زخمی

بالائی علاقوں میں برفباری سے نظام زندگی مفلوج، رابطہ سڑکیں بند، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، درجنوں زخمی

اسلام آباد، دیامر، نیلم، ایبٹ آباد: ملک کے بالائی علاقوں میں شدید برفباری سے نظام زندگی مفلوج ہوگیا اور سڑکیں بند ہونے کی وجہ سے سیاح محصور ہوکر رہ گئے ہیں، مختلف واقعات میں 2 افراد کے جاں بحق بحق ہونے کی بھی اطلاعات ہیں جبکہ درجنوں افراد زخمی ہوئے ہیں، آج بھی مختلف علاقوں میں بارش اور برف باری کی پیشگوئی کی گئی ہے۔

پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق ملکہ کوہسار مری میں گزشتہ رات سے وقفے وقفے سے برفباری کا سلسلہ جاری ہے، مری میں اب تک تقریباً 12 انچ تک برفباری ریکارڈ ہوئی ہے۔

مری میں اس وقت بھی برفباری جاری ہے، آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران بارش اور شدید برفباری کی پیشگوئی ہے، سیاحوں کو غیر ضروری سفر سے اجتناب اور محتاط رہنے کی ہدایت کی گئی۔

بلوچستان کے شمالی بالائی علاقوں میں برفانی طوفان جاری ہے، زیارت جانے والی درجنوں گاڑیاں کوئٹہ زیارت شاہراہ پر پھنس گئی ہیں جب کہ چمن کے گردونواح میں 100 سے زائد سیاح گاڑیوں میں موجود ہیں، این 50 شاہراہ پر مختلف مقامات پر ٹریفک متاثر ہوئی ، جس سے بین الصوبائی آمدورفت معطل ہو گئی۔

این 50 شاہراہ پر برف اور شدید پھسلن کے باعث 9 مختلف حادثات پیش آئے جن میں 27 افراد زخمی ہوئے، کوژک ٹاپ پر سائیبرین ہواؤں کے باعث این 25 چمن کوئٹہ کراچی شاہراہ پر درجہ حرارت منفی 12 ڈگری تک گر گیا، جس سے سردی کی شدت میں نمایاں اضافہ ہوا۔

شیلاباغ کے قریب پھسلن کے باعث متعدد گاڑیاں آپس میں ٹکرا گئیں، حادثے میں 2 افراد جاں بحق اور 7 زخمی ہوگئے۔ کوئٹہ میں بھی موسم سرما کی پہلی برفباری ریکارڈ کی گئی جس سے سردی میں اضافہ اور شہری علاقوں میں مشکلات پیدا ہوئیں۔

زیارت ، چمن، کوئٹہ، قلات ، ژوب ، قلعہ سیف اللہ میں درجہ حرارت نقطہ انجماد سے نیچے گر گیا، ٹھنڈ کے باعث پائپوں کا پانی جم گیا ، شدید سردی سے سڑکوں پر کھڑا پانی بھی برف میں تبدیل ہو گیا، شدید سردی میں گیس نہ ہونے سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں